ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری معاملہ پر دیوے گوڑا کی بھوک ہڑتال شروع

کاویری معاملہ پر دیوے گوڑا کی بھوک ہڑتال شروع

Sat, 01 Oct 2016 21:21:26    S.O. News Service

بنگلورو، یکم اکتوبر (ایس او نیوز) سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کرناٹک اور تمل ناڈو کے مابین کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں مرکز کے رویہ کے خلاف آج بھوک ہڑتال شروع کردی اور ودھان سودھا میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔مسٹر دیوے گوڑا صبح مہاتما گاندھی کی مورتی پر پھولوں کا ہار چڑھانے کے بعد اچانک دھرنے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت نے کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں ریاستوں کے تئیں انصاف نہیں کیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے یہ قدم سپریم کورٹ کی جانب سے چار اکتوبر تک کاویری انتظامیہ بورڈ کی تشکیل کیلئے مرکز کو دئے گئے حکم اور کرناٹک کو تملناڈو کیلئے روزانہ کاویری ندی سے چھ ہزارکیوسک پانی چھوڑنے سے متعلق ہدایت دئے جانے کے بعد اٹھایا۔کرناٹک نے عدالت عظمی کی ہدایت کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ مسلسل دو خراب مانسون کے سبب ریاست کے چار وں بیاریجوں میں پانی نہیں ہے۔ریاستی اسمبلی پہلے ہی کاویری ڈیم میں آبی ذخیرہ کرکے اس کا استعمال صرف پینے کے پانی کیلئے ہی کئے جانے کے سلسلے میں اپیل کرنے کیلئے ایک قرارداد منظور کرچکی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہاکہ اس غیر آئینی فیصلے پر عمل کیلئے ریاستی حکومت پر زور دینا بھی زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ کی تفصیلات اب وزیر اعظم مودی بھی جانتے ہیں، اسی لئے انہیں فوری طور پر مداخلت کرنی چاہئے۔ جب تک وہ مداخلت نہیں کریں گے وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل کاویری مسئلہ پر سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے ذریعہ ناانصافیاں ہورہی ہیں۔ یہ سلسلہ اب ختم کردیا جانا چاہئے۔کاویری آبی تنازعہ کے معاملے میں مرکزی حکومت کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ایسے اہم معاملات کو نظر انداز کرکے حکومت اپنی ذمہ داریوں سے دامن بچا نہیں سکتی۔ کاویری معاملہ میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانے سے انکار کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہاکہ کرناٹک میں اگر پانی دستیاب ہوتو پڑوسی ریاست تملناڈو کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دی جائے گی، لیکن ایسے وقت میں جبکہ ہمارے آبی ذخائر میں پانی موجود نہ ہو تو تملناڈو کو پانی فراہم کرنا کیونکر ممکن ہوگا؟۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی مشورہ دیا ہے کہ ماہرین کی ٹیم دونوں ریاستوں کو روانہ کی جائے اور اس کے ذریعہ آبی ذخائر کا جائزہ لینے کے بعد طے کیاجائے کہ کس ریاست کو کتنا پانی ملنا چاہئے۔ جنتادل (ایس) کے متعدد قائدین سابق وزیر اعظم کی بھوک ہڑتال کے دوران ان کے ساتھ پہنچ گئے، ان میں سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی، جے ڈی ایس کے تمام باغی اراکین اسمبلی،ایچ ڈی ریونا شامل تھے، جبکہ وزیر داخلہ اور کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے ودھان سودھا اور وکاس سودھا کے درمیان موجود گاندھی مجسمہ کے پاس پہنچ کر احتجاج میں مصروف دیوے گوڈا سے ملاقات کی اور ان سے بھوک ہڑتال واپس لینے کی گذارش کی۔ دورہئ میسور سے واپسی کے فوری بعد وزیراعلیٰ سدرامیا نے بھی سابق وزیر اعظم سے بات کی اور ان سے گذارش کی کہ اپنی صحت کا خیال کرتے ہوئے بھوک ہڑتال واپس لے لیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کاویری معاملہ میں ریاستی حکومت کرناٹک کے مفادات کو ہرگز قربان ہونے نہیں دے گی۔اس معاملہ میں ریاستی حکومت کی قانونی جنگ تمام قائدین کے مشوروں سے ہی آگے بڑھائی جائے گی۔


Share: